نئی دہلی،29؍ مئی (ایس او نیوز؍ایجنسی) گردابی طوفان یاس نے اڈیشہ اور مغربی بنگال میں زبردست تباہی مچانے کے بعد جھارکھنڈ، بہار اور یو پی میں بھی اپنا اثر چھوڑا۔ جھارکھنڈ میں تو کئی مکانات منہدم ہو گئے اور رانچی میں واقع ایک نوتعمیر پل کے بھی ٹوٹنے کی خبریں سامنے آئی ہیں۔ اس درمیان وزیر اعظم نریندر مودی نے یاس کی تباہی کا جائزہ لینے کیلئے اڈیشہ اور مغربی بنگال کا دورہ کیا۔ بعد ازاں انھوں نے 1000 کروڑ روپے کے راحتی پیکیج کا اعلان کیا۔
لیکن اس اعلان میں مغربی بنگال کیلئے ایک جھٹکا یہ ہے کہ ریاست کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے جو گزارش پی ایم مودی سے کی تھی، اس پر توجہ نہیں دی گئی۔دراصل ممتا بنرجی کی آج جب مغربی بنگال کے مدنی پور میں وزیر اعظم سے ملاقات ہوئی تو انھوں نے ریاست کو ہوئے نقصانات سے متعلق رپورٹ سونپی اور 20 ہزار کروڑ روپے کے راحتی پیکیج کا مطالبہ کیا تھا۔ لیکن پی ایم نے فوری طور پر صرف 1000 کروڑ روپے کے راحتی پیکیج کا اعلان کیا ہے، اور اس میں بھی 500 کروڑ روپے فوری طور پر اڈیشہ کو دینے کا اعلان کیا ہے، جب کہ بقیہ 500 کروڑ روپے مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کے درمیان تقسیم ہوں گے۔
بتایا جاتا ہے کہ دونوں ریاستوں کو ملا کر نقصانات کے حساب سے 500 کروڑ روپے دیے جائیں گے۔وزیر اعظم کے دفتر کا کہنا ہے کہ نقصان کا جائزہ لینے کیلئے مرکزی ٹیم ریاستوں کا دورہ کرے گی۔ معائنہ کے بعد اندازے کی بنیاد پر آگے راحتی امداد دی جائے گی۔ حالانکہ اس درمیان پی ایم مودی نے اڈیشہ، مغربی بنگال اور جھارکھنڈ کو یقین دہانی کرائی ہے کہ مرکز اس مشکل وقت میں ریاستی حکومتوں کے ساتھ مل کر کام کرے گا۔ وزیر اعظم نے گردابی طوفان سے ہلاک ہونے والی فیملی کو 2-2 لاکھ روپے اور سنگین طور سے زخمی لوگوں کو 50 ہزار روپے دینے کا اعلان بھی کیا ہے۔